نئی دہلی:30/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر راہل گاندھی نے بدھ کو دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں’ یوتھ کانگریس‘ کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ اپنی جارحانہ تقریرمیں انہوں نے رافیل اور سی بی آئی کوموضوع بناکر وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر سوال کیے۔گواکے وزیراعلیٰ اورسابق وزیر دفاع منوہرپاریکر کی بھی بات کی اور کہا کہ انہیں رافیل ڈیل کی معلومات تک نہیں دی گئی۔راہل نے کہا کہ میں کل منوہر پاریکرسے ملا تھا۔ انہوں نے خود کہا تھا کہ ڈیل بدلتے وقت وزیر اعظم نے ہندوستان کے وزیر دفاع سے نہیں پوچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رافیل پر ہم نے 3۔4 سوال پوچھے۔کبھی یوں دیکھا، کبھی ادھر دیکھا، کبھی اُدھر دیکھا۔راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طرف منوہر پاریکر کابینہ میں کہتے ہیں کہ میرے پاس رافیل ہوائی جہاز کی فائل پڑی ہے، مجھے گوا سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ان کے وزیرصحافی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں ۔مودی جی پاریکر کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کانگریس صدر نے سی بی آئی کے معاملے پر کہا کہ سی بی آئی چاہتی ہے کہ میں انکوائری کروں ، پی ایم امت شاہ سے کہتے ہیں اس کو خاموش کراؤ، ڈیڑھ بجے رات کو نکالو اس کو۔ایئر فورس سے آواز آ رہی ہے کہ ہمارے صاحب نے لوگوں کو بائی پاس کیا۔بیوروکریٹس کہہ رہے ہیں مودی نے انل امبانی کو دیا، ہندوستان کے 30 ہزار کروڑ چوری کئے۔وزیر اعظم پر نشانہ لگاتے ہوئے راہل نے کہا کہ مودی جی میں سمجھ رہا ہوں کہ رات کو آپ کو نیند نہیں آ رہی ہے۔ میں جانتا ہوں جب سوتے ہیں رات کو تو آپ کو انل امبانی کی تصویر نظر آتی ہے، رافیل ہوائی جہاز کی تصویر دکھائی دے رہی ہوتی ہے ۔، ہندوستان کی فضائیہ کے شہداء کی تصویر دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ساڑھے چار پہلے مودی جی نے کہا کہ ملک سے کانگریس کو ختم کر دوں گا۔ کہتے تھے، مجھے پی ایم نہیں بننا چوکیدار بننا ہے۔ہر سال 2 کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا نوجوانوں کو روزگار ملا؟ نوجوانوں کو روزگار نہیں دیا؛ لیکن فرانس کے صدر نے بتایا کہ مودی نے ان سے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیل کا کانٹریکٹ چاہئے تو انل امبانی کو کانٹریکٹ دینا ہی پڑے گا، ایچ اے ایل کا کانٹریکٹ چھین لیا۔انہوں نے کہا کہ سچائی کو بدلا نہیں کیا جا سکتا ہے،آہستہ آہستہ رافیل کی حقیقت عوام کے سامنے آ رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے معاً بعد سی بی آئی ڈائریکٹر کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ وزیر دفاع رافیل ڈیل کا دام نہیں بتا سکتیں لیکن ریلائنس اور دی سلٹ اپنے سالانہ رپورٹ میں رافیل کا دام لکھتے ہیں ۔کسان اپنا قرض معاف کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن نریندر مودی کو کچھ سنائی نہیں دیتا۔ انہوں نے 15 لوگوں کا ساڑھے تین لاکھ کروڑ معاف کیا، ہم نے دو دن میں کسانوں کا قرض معاف کردیا۔راہل گاندھی نے کہا، کانگریس سچائی کا تحفظ کرتی ہے ، وہ جھوٹ کی حفاظت کرتے ہیں۔کسانوں سے کہا جاتا ہے قرض واپس کریں ، انل امبانی سے کیوں نہیں کہتے؟ پریس والے کہتے ہیں، قرض معاف کیا تو عادت بگڑ جائے گی ،کیا مالیا، امبانی اور میہول کی عادت نہیں بگڑی؟راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ :’کہتے ہیں پکوڑی بنائیں، نالے کے گیس سے ڈھابہ پر کھانا بنانے کا ذکر کرتے ہیں۔ مودی جی اپنے سامنے پائپ لگائیں، پھردیکھیں گیس نکلتی ہے یا نہیں۔